دی ٹائمز (برطانیہ)کو لکھے جانے والے دل چسپ خطوط
کچھ روز اُدھر معروف برطانوی اخبار، دی ٹائمز کو لکھے جانے والے خطوط کا انتخاب نظر سے گزرا۔ کتاب کا عنوان تھا :
The First Cuckoo
(Letters to The Times since 1900)
میں کتاب خانے کی راہ داریوں میں محوِ سیر تھا۔ اِدھر سے اُدھر، یہاں سے وہاں۔ کتاب کا نام پڑھ کر ٹھٹھک گیا۔ لازم نہیں شیکسپیئر کا کہا ہمیشہ درست ہو، نام میں کیا رکھا ہے! نام میں سیروں عطر ہوتا ہے، سیکڑوں پھول: قیاس کن ز گلستان من بہار مرا۔ شیکسپیئر کی بات اپنے سیاق میں درست ہے، یہ نکتہ اپنے حساب سے روا ۔ The First Cuckoo، کیسا زندگی آمیز اور امید افزا نام ہے، طبیعت آپ سے آپ کِھچی چلی آتی ہے۔ مغرب کے ادبی معاشروں کا ایک درس یہ بھی ہے، کتاب کے سبھی اجزا (جلد، نام، صفحہ، سرورق، فہرست، تصاویر۔۔۔) کو تشویق انگیز (Convincing) بنایا جائے۔ ظاہر ہے اس تحریصی رویے سے مراد جوشیلا بھڑکیلا ہونا نہیں، سادہ و پرکار ہونا ہے۔ ارنسٹ ہیمنگوئے کے بارے میں مشہور ہے، وہ اپنی تمام کتابوں کے سرورق معنی خیز حد تک سادہ بنواتا تھا۔ سرورق بھی ایک طور کا ماورائے متن یا Para text ہوتا ہے۔ انگریزی میں اسے آئس برگ نظریے (Iceberg Theory) سے منسوب کیا جاتا ہے۔
قصہ کوتاہ، دی ٹائمز کے خطوں کو شوق کی عینک سے پڑھا اور دل کے عدسے دیکھا۔ زبان و موضوع کی خوبیاں ایک طرف، کتاب کا مواد نہایت اہم معلوم ہوا۔ اس بات میں دو رائے نہیں کہ بیسویں صدی کے برطانوی سماج کو سمجھنا ہماری ضرورت ہے۔ زیادہ دن نہیں گزرے، جب ہمارے بزرگ برطانیہ بل کہ سارے یورپ کو ولایت کہتے تھے۔ خطوں کا یہ مجموعہ اسی ولایت کا مزاج سمجھاتا ہے۔ سبزہ و گل، اَگر و آتش، چرند پرند اور نامیاتی کائنات پر جان چھڑکنے والی برطانوی قوم کا مزاج۔ ظاہر ہے، اخبارات کو خط لکھنے والے لوگ، لازمی طور پر معروف یا عالم فاضل نہیں ہوتے۔ یہ بات کتاب کے حق میں جاتی ہے، عام قارئین کا زندگی گزارنے کا نقطۂ نظر (Worldview) مجموعی قومی نفسیات کو زیادہ احسن طور پر سامنے لاتا ہے۔ اس مجموعے کے اکثر خط پنشن یافتہ برطانوی استادوں اور سرکاری ملازموں نے لکھے ہیں (دو ایک معروف ادیبوں اور فلسفیوں کے بھی ہیں)۔ بستر میں دراز ہوتے، یادوں سے بھرے، صحت مند اور گم نام بزرگ۔ ان جواں ہمت بوڑھوں کی دیانت داری اور مزید جاننے کی ہوس مثالی ہے۔ جن دو خطوں پر کتاب کا عنوان قائم ہے، انھیں ملاحظہ کیجے اور مجھے شرح کی آزمائش سے نکلنے دیجے۔
خطوط
کوئل کی پہلی آواز سننے پر
(6 فروری 1913)
مسٹر لائیڈیکر، ایف۔آر۔ایس۔ سے
گرامی قدر،
آج دوپہر باغبانی کے دوران میں نے ایک مدھم آواز سنی۔ میرے اندازے کے مطابق یہ کوئل کی آواز تھی۔ میں نے اپنے مالی سے، جو میرے ساتھ کام کر رہا تھا، پوچھا، ”کیا تم نے کوئل کو سنا؟“ تقریباً اسی اثناء میں شیریں اور اونچے سُروں والی لَے نے کئی بار ہم دونوں کی سماعتوں میں رَس گھولا۔ ہم نہال ہو گئے۔ سچ یہ ہے، میں دیانت داری سے بتانے سے قاصر ہوں، یہ آواز حقیقی پرندے کی تھی یا کچھ اور۔ لیکن دو باتیں طے ہیں، آواز کوئل ہی کی تھی اور اس کی گونج تقریباً چوتھائی میل دور، مغرب سے آ رہی تھی۔
آنجہانی پروفیسر نیوٹن نے برٹش برڈز (یارل) کی چوتھی جلد میں لکھا ہے، برطانیہ میں کوئل کی موجودگی کے واقعات کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ چھ اپریل سے پہلے کبھی اس پھرتیلے پرندے کا لائقِ اعتبار ریکارڈ نہیں مل سکا۔
آر۔ لائیڈیکر
(مندرجہ بالا واقعہ ہرفورڈ شائر میں پیش آیا)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــ
12 فروری 1913
محترمی،
مجھے تاسف ہے، دیگر کئی ہم وطنوں کی طرح، میں بھی کوئل کی آواز کے معاملے میں فریب کا شکار ہو گیا ہوں۔ اصل میں، یہ آواز ایک مزدور نے تفننِ طبع کے طور پر نکالی تھی۔ یہ چار اپریل کا واقعہ ہے، مزدور میرے گھر کے قریب ہی مصروفِ کار تھا۔ میں اس شخص سے خود ملا ہوں اور بات کی ہے۔ یہ آدمی حیرت انگیز طور پر بغیر کسی آلے اور دِقّت کے منہ سے کوئل کی آواز نکالنے کی قدرت رکھتا ہے۔
آر۔ لائیڈیکر
میں نے اس مجموعے کے ایک خط کا ترجمہ، غالب کے حوالے سے کیا تھا۔ غالب کے خطوں کو انتظار حسین بیسویں صدی کا ناول کہتے تھے۔
ناول بھی کیسا بسیط و ضحیم، جامع و لامع۔ اس ناول میں دلّی کی حکمت اور مروجہ دوا دارو بھی سمٹ آئے ہیں۔ صرف ”اردوئے معلی“ ہی میں حکمت کی اتنی اصطلاحیں ہیں کہ قاموس تیار ہو سکتا ہے۔ غالب کی صحت کا حال سب کو معلوم ہے، زندگی میں متعدد مرتبہ جونکیں لگوائیں۔ آخری دور میں پاؤں پر ورم آ گیا۔ ورم کے کنارے گولائی میں سفید دانے نمودار ہونا شروع ہوئے، گویا کسی نے ورم کے گرد پرکار کھینچ دی ہو۔ عبد الرزاق کے نام اپنے خط میں اسے کہکشاں سے منسوب کیا ہے۔ خیال کی لطافت اور بیماری کی سبک بیانی (Understatement) ملاحظہ ہو۔ کیا خبر منٹو کو ٹیڑھی لکیر کا ہیرو اسی خط سے ملا ہو، جو ٹیکے کے بعد چڑھنے والے تاپ سے حظ اندوز ہوتا ہے اور نت نئے فلسفے گھڑتا پھرتا ہے۔ بہ ہر صورت ہندوستانی جونکوں کی شہرت دنیا میں دیکھنی ہو تو The first Cuckoo کا خط پڑھیے:
جونکیں
ماسٹر آف کرائسٹ کالج، کیمبرج کی جانب سے
28 جنوری 1915
جناب،
ہمارے ملک میں کئی ماہ سے جونکوں کا سخت کال ہے۔ پچھلے نومبر تک لندن میں محض چند درجن جونکیں باقی تھیں اور وہ بھی استعمال شدہ، اندازہ کیجے!
حالت یہ ہے کہ جنرل جوفر، جنرل فان کلوک، جنرل فان ہنڈنبرگ، اور گرینڈ ڈیوک نکولس یورپ کے بہترین جونکوں والے علاقوں پر قبضہ جمانا چاہتے ہیں۔ اس کے لیے لڑائیوں کے خنجر تیز ہیں۔ خدا جانے یہ کمی کب تک جاری رہے گی۔ ورڈزورتھ کے زمانے میں بھی مقامی جونکوں کی تعداد گھٹ رہی تھی۔ اُس وقت سے ہمارا زیادہ تر انحصار فرانس اور وسطی یورپ سے برآمد شدہ جونکوں پر ہے۔
میں نے نومبر میں حالات کی بہتری کے لیے امریکہ اور کینیڈا سے رابطہ کیا۔ لیکن کامیابی نہ ہوئی۔ پھر بھارت سے رجوع کیا۔ پچھلے ہفتے ڈاکٹر اینامڈیل، ڈائریکٹر انڈین میوزیم کلکتہ، اور لندن اسکول آف ٹراپیکل میڈیسن کے کرنل الکوک، ایم ڈی، کی امداد سے، میں جونکوں کی بڑی کھیپ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا ہوں۔ بھارت میں اسے فاسد خون کے اخراج کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ جونک کی یہ نوع ہماری طبی کتابوں میں بیان کردہ Hirudo medicinalis سے مختلف ہے۔ اس کا نام Limnatis granulosa ہے۔
ان کے تغیر پذیر حجم کو دیکھتے ہوئے ہمیں اپنے اندازے اور معیار بدلنے ہوں گے۔ خوشی کی بات ہے ، جب دو روز قبل میں نے انھیں دیکھا ، وہ صحت مندی و مسرت سے اپنا کام کرنے کے لیے بے چین تھیں۔ بمبئی کا طویل سفر ، اس پر موسم کی تبدیلی! لیکن ان کی کیفیت قابلِ اطمینان ہے۔ وہ لندن کی پچاس وگمور اسٹریٹ میں سرگرم ہیں۔ ان کی بھوک قابلِ رشک ہے۔
یہ بھی سچ ہے کہ جونکوں کا استعمال پہلے کی نسبت کافی گھٹ گیا ہے۔ اسّی برس پہلے (1830ء) صرف پیرس میں سالانہ تقریباً 5 کروڑ 20 لاکھ جونکیں استعمال ہوتی تھیں۔ فی زمانہ ان کی تعداد تشویشناک حد تک کم ہے۔ بہت صورت یہی ہے!
شاید میرے ہم وطنوں کو یہ جان کر تسلی ہو کہ جونکوں کی کمی کا ازالہ اس حقیقت سے ہو رہا ہے کہ وسطی یورپ میں ساسیج بنانے کے غلاف کی شدید کمی ہے۔ جرمن پوری ریاضت سے مصنوعی غلاف بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
خاکسار،
اے۔ ای۔ شپلی
انسانی دماغ اور نفسیات کی پیچیدگی پر شاید ہی کسی کو اعتراض ہو۔ کچھ دن پہلے ایک شاگرد ملنے آیا۔ چائے پانی کے دوران اسے گھر کے اندر سے بیٹی کے نظم پڑھنے کی آواز آئی۔ کہنے لگا، سر یہ نظم بند کروا دیجیے، مجھے اس نظم کو سن کر شرم آتی ہے۔ مجھے لفظ شرم کے استعمال پر حیرت ہوئی۔ ٹٹولنے پر کھلا، کچھ سال پہلے، اس نظم کی وجہ سے موصوف کو ایک طمانچہ رسید ہو چکا ہے۔ لوکل بس میں سفر کے دوران ایک خاتون اپنے بچے کے ساتھ زنانے میں بیٹھی تھی، جگہ کی کمی کے باعث مردانے کے کئی مرد متصل کھڑے تھے۔ گاڑی کو اچانک بریک لگی۔ بچارا شاگرد خاتون کی جھولی میں جا گرا۔ مجبوری یا علت کو سمجھے بغیر زناٹے دار تھپڑ جڑا گیا۔ جب یہ واقعہ پیش آیا، خاتون کی جھولی کا بچہ وہی نظم سن رہا تھا ۔ بعد ازاں ہر بار نظم یاد کرتے ہی، غریب کے دانتوں تلے پسینہ آ جاتا۔ ظاہر ہے کئی جذبات ایسے ہیں جن کی ٹوہ نہیں لگائی گئی۔ گپتا کے عہد کے شنکر اچاریہ نے پینتالیس بھاونائیں گنوائی تھیں۔ جدید نفسیات بھی اس سے ملتی جلتی تعداد (انچاس) تک پہنچ گئی ہے۔ کئی بے نام الجھنیں ذہن کی باؤلی سے سر اٹھاتی ہیں اور انسان کو دبدھے میں ڈالتی ہیں۔ اسی نوع کا ایک خط ملاحظہ ہو:
از مسٹر ڈبلیو۔ ہاجسن برنیٹ
۱۹ مئی ۱۹۳۲
محترم جناب،
میں سوچتا ہوں، کیا آپ کے قارئینِ ذکور میں کوئی ایسا بھی ہے جو میری طرح ایک عجیب و غریب بیماری میں مبتلا ہے، اگر آپ اجازت دیں، میں اسے ’’ حجاب دوکان (Shop-shyness) کہہ سکتا ہوں!
جب میں خریداری کی غرض سے دکان میں داخل ہوتا ہوں، کبھی اپنے پسند کی شے حاصل نہیں کر پاتا۔ آخر کار ناپسندیدہ چیز ہی پر کفایت کرنا پڑتی ہے۔ دراصل میں جو چیز خریدنا چاہتا ہوں وہ مجھے کبھی نہیں ملتی۔ (غضب نہیں!) آخر کار ناگوار لیتے ہی بنتی ہے۔
مثلاً ٹوپیوں کو لیجیے۔ میں نرم سرمئی ٹوپی خریدنا چاہتا ہوں جس کی قیمت شوکیس پر اٹھارہ شلنگ اور سات پینس لکھی ہوتی ہے۔ لیکن یہ کیا، تھوڑی دیر بعد ایک بے چاہی بھوری چوہا نما ٹوپی کے ساتھ باہر آتا ہوں، حد ہے! وہ مجھ پر ذرا نہیں پھبتی۔ یہ سب اس لیے ہوتا ہے کہ مجھ میں انکار و اقرار کا حوصلہ نہیں۔ میں کسی کو بہ اصرار نہیں کہہ سکتا، مجھے وہی چاہیے جو میں نے پسند کی ہے۔ میں عادتاً مدقوق لہجے میں کہہ دیتا ہوں: ’’ہاں، یہی دے دیجیے‘‘، صرف اس لیے کہ دکاندار بتلاتا ہے، ”یہ مجھ پر جچتی ہے۔ بالکل ٹھیک ہے! دراصل یہ میری پوچھیے گئی ٹوپی سے کہیں بہتر ہے۔“
جوتوں کے ساتھ بھی یہی حال ہے۔ جب جوتوں کی دکان میں ہوتا ہوں تو بالکل ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے کمہار کے ہاتھوں میں گیلی مٹی آ جائے۔ میں کہتا ہوں: ’’مجھے ایک کالے جوتوں کا جوڑا چاہیے، تقریباً پچیس شلنگ والے، جیسے شو کیس میں رکھے ہیں۔‘‘
دکاندار گھٹنے ٹیک کر پیر ناپتا ہے، ایک ڈبے سے جوتا نکالتا ہے، مجھے پہناتا ہے اور کہتا ہے: ’’یہ بالکل ٹھیک ہے۔‘‘
میں اٹھ کر چلتا ہوں اور پوچھتا ہوں: ’’کتنے کے ہیں؟‘‘
وہ کہتا ہے: ’’باون شلنگ اور چھ پینس کے ہیں جناب، یہ بہت اعلیٰ درجے کے جوتے ہیں۔‘‘
اور میں ہمت نہیں کر پاتا کہ پچیس شلنگ والے سستے جوتے دکھانے کو کہوں، جو دراصل میں نے لینے کا سوچا تھا۔
میں مضمحل لہجے میں کہتا ہوں: ’’ٹھیک ہے، یہی لے لیتا ہوں۔‘‘ اور واقعی لے لیتا ہوں۔
اس کے ساتھ میں پالش کی ایک بوتل، ایک جوڑا مردانہ جرابوں کا، اور کچھ ایلومینیم کے سخت تلوے (shoe trees) بھی خرید لیتا ہوں جنہیں بیچنے والا اصرار کرکے میرے بیگ میں رکھ دیتا ہے۔
یوں ہمیشہ کی طرح میں اپنی خریداری بگاڑ بیٹھتا ہوں۔
کیا ’’دکان کی جھجک‘‘ کا کوئی علاج ہے؟ کوئی ایسا ’’خریداری کا نصاب‘‘ ہے جو مجھے چیزیں خریدنا سکھا سکے؟
اگر ہے تو ضرور بتائیے، کیوں کہ مجھے ابھی نہایت دل کش مردانی کپڑوں کی کم قیمت فہرست ملی ہے
اور میں ڈرا ہوا ہوں، ہاں، واقعی مجھ پر لرزہ طاری ہے۔
آپ کا فرمانبردار خادم
ڈبلیو۔ ہاجسن برنیٹ
کتاب کے چند خط ملاحظہ ہوں:
بچوں کی پختگی
ڈاکٹر جی۔ اے۔ رے
3 اکتوبر 1963
محترم جناب،
کہا جاتا ہے، آج کل کے بچے جسمانی طور پر (اگر ذہنی طور پر نہیں بھی) پہلے کے مقابلے میں نہایت سرعت کے ساتھ بالغ ہو جاتے ہیں۔
میں جاننا چاہتا ہوں، اس بات کا کیا ثبوت ہے، جسے لوگ اتنی آسانی کے ساتھ تسلیم کر لیتے ہیں؟ 1863 یا اس کے بعد ایسے کون سے ماہرین تھے جو مختلف سماجی طبقوں کے درمیان، لڑکوں اور لڑکیوں میں بلوغت کے آغاز کے سن پر، اعداد و شمار کی جمع و تفریق کر رہے تھے؟ اگر اس طرح کا موازنہ کبھی ہوا ہی نہیں، پھر اس نظریے کی کوئی بنیاد نہیں۔
لڑکیوں میں بلوغت کے آغاز کا اندازہ لگانا شاید کسی حد تک ممکن ہے، لیکن لڑکوں کے بارے میں ایسا کوئی طریقہ موجود نہیں۔ جہاں تک ذہنی یا نفسیاتی پختگی کا تعلق ہے، تو اسے ناپنے کا منہاج کسی صنف میں میسر نہیں۔
مزید طرہ یہ کہ اس رجحان کی وضاحت ایک حالیہ ٹیلی ویژن بحث میں بہت یقین سے پیش کی گئی ہے۔ کہا گیا، بچوں میں قبل از وقت پختگی کی وجہ بہتر خوراک ہے۔ اگر یہ بات سچ مان لی جائے تو اس کا مطلب ہے، پہلے جو غریب اور کم غذائی ماحول میں پلنے والے طبقے کے بچے تھے، اب وہ بھی جنسی لحاظ سے ایٹن (Eton) اور روڈیان (Roedean) جیسے امیر اداروں کے بچوں کے برابر ترقی کر رہے ہیں
لیکن حقیقت یہ ہے، اس بات کا کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں۔ یہ نظریہ بالکل غلط بھی ہو سکتا ہے۔ پھر بھی یہ معاملہ اہم ہے، کیوں کہ ماہرین اسی بنیاد پر نوجوانوں کے جنسی رویے کے بارے میں “دانش مندانہ” رویہ طے کرنے کی سعی کر رہے ہیں۔
ممکن ہے، دوسری وجوہات بھی ہوں : جیسے ناجائز بچوں کی پیدائش اور جنسی بیماریوں کی شرح میں اضافہ، مگر میں نے سنا ہے، ان اعداد و شمار پر ابھی مزید اور طویل تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ کوئی درست نتیجہ نکالا جا سکے۔
میں خود بگڑے ہوئے نوجوانوں کے ساتھ کام کرتا ہوں اور ان کے “مطابقت آمیزی” (conformity) کے مسائل سے خوب واقف ہوں۔ میں سوچتا ہوں، اگر ماہرین کوئی معیار طے کر بھی لیں، تو اسے نوجوانوں میں قبول کیوں کر بنایا جائے گا؟
یہ بات افسوس ناک ہے، ایک نوجوان ماہرِ نفسیات اُن مذہبی رہنماؤں کا مذاق اُڑاتا ہے جو اس موضوع پر اصلاح کی کوشش کر رہے ہیں اور اس سے بھی زیادہ تاسف یہ ہے، اس حرکت کو میڈیا میں نمایاں کر کے حالات مزید خراب کیے جا رہے ہیں۔
جب آپ اور میں نوجوان تھے، کیا کوئی کمیٹی ایسا فیصلہ کرنے نہیں بیٹھتی تھی کہ جنسی رویہ کیسے ہونے چاہئیں؟ یقیناً آج اس کی کچھ وجوہات ہیں۔ اگر ان محققین کو بحث و تمحیص سے قبل اصل حقائق کو م پرکھنا یاد دلایا جائے تو یہ بڑی قومی خدمت ہو گی۔
مخلص،
جی۔ اے۔ رے
بالوں والے لڑکے
سر برنارڈ مائلز کی طرف سے
(لائف پیئر 1979)
10 فروری 1971
محترم،
میں نے 5 فروری کو "ٹُو ڈے” پروگرام میں سنا کہ مسٹر ٹیمپل نے، جو بیڈ اسکول، سنڈر لینڈ کے ہیڈ ماسٹر ہیں، اپنے ایک شاگرد، پال کوچارِسکی، کو اس وقت تک اسکول آنے سے منع کر دیا ہے جب تک وہ اپنے بال نہیں ترشوائے گا۔
یہ سن کر مجھے یورپی مصوری میں ہمارے نجات دہندہ حضرت عیسیٰ مسیح کی کئی تصویریں یاد آئیں : جیوٹو، پیرو ڈیلّا فرانچیسکا، مائیکل اینجیلو، لیونارڈو، ٹیٹین، ریمبرینٹ، وین آئک برادران اور دوسرے، یعنی ایک طرح کی "فرسٹ ڈویژن ٹیم” اگر کبھی تھی۔ ان سب نے عیسیٰ کو زلفوں کے ساتھ دکھایا ہے۔
سوال یہ ہے کہ مسٹر ٹیمپل مذہبی طور پر کہاں کھڑے ہیں؟ مقامی تعلیمی اتھارٹی کا اس بارے میں کیا مؤقف ہے؟
مخلص،
برنارڈ مائلز
مسٹر ٹی۔ وائی۔ ڈارلنگ کی طرف سے
17 فروری 1971
محترم،
اگر سر برنارڈ مائلز، باب 11، آیت 14 کو دیکھیں تو انہیں نظر آئے گا، سینٹ پال کہتے ہیں:
"کیا فطرت خود تمہیں نہیں سکھاتی، اگر مرد کے بال لمبے ہوں تو یہ اس کے لیے حجاب کی بات ہے؟”
مجھے ہمیشہ یہ بات نا ممکن سی لگی ہے، اگر مسیح کے بال لمبے ہوتے، سینٹ پال کی کیوں کر ایسی بات کر سکتے تھے؟ کیا یہ ممکن نہیں، وہ عظیم مصور، جو سینکڑوں سال بعد آئے، اس بارے میں غلطی پر تھے اور صرف اپنے زمانے کے فیشن کو عیسیٰ کی تصویروں میں دکھا رہے تھے؟
مخلص،
ٹی۔ وائی۔ ڈارلنگ
ہٹلر کی شخصیت کی ساخت
ڈاکٹر ولیم براؤن کا خط — 19 اکتوبر 1939
ڈائریکٹر، انسٹی ٹیوٹ آف ایکسپیریمنٹل سائیکالوجی، آکسفورڈ یونیورسٹی (1936–45)
محترم جناب،
سر نیول ہینڈر سن کی “فائنل رپورٹ” پڑھنے سے ہٹلر کے کردار کی بابت جو نفسیاتی نتائج نکلتے ہیں، وہ بالکل واضح ہیں۔
مجھے لگتا ہے، اس کی ذہنی ساخت میں چند نمایاں رجحانات موجود تھے:
1 : اعصابی اُبال اور ہجوم پر اثر انداز ہونے کی قوت
ہٹلر کے ذہن میں ایک عجیب وغریب اعصابی جوش تھا، جو اسے ہجوم پر تادیر اثر انداز ہونے کے قابل بناتا تھا۔
وہ کسی مسئلے پر اس قدر مرکوز ہو جاتا کہ وقتی طور پر دوسرے پہلوؤں سے مکمل بے خبر رہتا۔ اسی وجہ سے بعض اوقات وہ ضدی یا بے ایمان محسوس ہونے لگتا۔ حالاں کہ وہ محض اپنے مقصد پر ارتکاز ذہنی و قلبی توجہ دے رہا ہوتا تھا۔ اس کے ذہن میں ممکنہ طور پر، فریڈرک دی گریٹ سے ایک لاشعوری وابستگی تھی، اور اس نے نپولین کے سیاسی انداز کی بھی نقالی کی، لیکن اقل درجے پر۔ یہی چیز اسے جدید معیار کے لحاظ سے ایک “قدیم وحشی راکھشس” جیسا دکھاتی ہے۔
2 : پیرانویا
ہٹلر میں دیوانگی کی حد تک شک اور وہم کا رجحان موجود تھا۔ وہ انتہائی جارحانہ مزاج کا حامل تھا۔ ہمیشہ دوسروں سے ناقابل بیان طرز کا خطرہ محسوس کرتا۔ اس کے ذہن میں یہ خوف رہتا، دشمن اسے چاروں طرف سے گھیر لیں گے۔ یہ خوف اسے زیادہ متشدد اور حملہ آور بناتا تھا۔
شاید یہ مزاج اس کی کھٹن ابتدائی زندگی سے (جب وہ ویانا میں تنہا اور مفلس تھا) پیدا ہوا ہو۔ اگرچہ موروثی عناصر کی موجودگی بھی ثابت ہے۔
3: خبط عظمت (Megalomania)
ہٹلر میں خبط عظمت پاگل پن کے درجے تک پہنچا ہوا تھا۔ وہ اپنے آپ کو مسیحا جانتا تھا۔ یہی وجہ ہے، اس کے ارد گرد کے لوگ بھی اسی واہمے کا شکار تھے۔ اس نے اپنے معتقدین کو اجتماعی واہمے (Collective Paranoia) کا مریض بنا ڈالا۔
4 : مجنونانہ حد تک دہرائے جانے کا عمل
ہٹلر میں ہر قیمت پر “فتح” حاصل کرنے کا خبط تھا۔ اس کا آخری مطالبہ یا علاقائی دعویٰ اکثر اس کی “آخری کوشش” یا “آخری نشہ” بن جاتا۔ جیسے شرابی کہتا ہے “یہ میرا آخری پیگ ہے” مگر پھر پیتا رہتا ہے۔
استنتاج (Conclusion)
ان تمام نفسیاتی باتوں کو دیکھتے ہوئے، یہ سمجھنا ممکن ہے، ہٹلر نے سوویت-جرمن معاہدے (Soviet-German Pact) کے بعد اپنی پالیسی میں اچانک الٹ پھیر کیوں کی۔ مارچ کے بعد کے واقعات، اور برطانیہ و فرانس کے ردعمل نے اس کے اندر یہ خوف پیدا کیا، دشمنوں نے اسے آن گھیر لیا ہے۔
اس کے بعد اس کی ذہنی کیفیت اتنی بگڑ گئی کہ وہ صرف “ماسکو کی طرف پیچھے ہٹنے” سے ہی اپنے ذہنی دباؤ کو کم سمجھتا تھا۔ لیکن اس مرحلے پر، وہ غالباً اپنی کتاب Mein Kampf میں بیان کردہ تمام اصولوں سے بھی انحراف کر چکا تھا۔ مشرقی محاذ پر ممکنہ شکست نے اسے ہلکا سا وقفہ دیا ہوگا، لیکن پایان کار، اس کے غائب ہونے یا خودکشی کرنے کی وجہ یہی نفسیاتی دباؤ بن سکتا تھا۔
مخلص،
ولیم براؤن

